Dr. A Q Khan
Mohsin e Pakistan

قرآن مجید اور اس کی ہدایت

Posted in Urdu Articles  by draqkadmin
June 16th, 2018

احکامات اِلٰہی اور قرآن مجید کی تشریح و تفسیر پر لاتعداد اعلیٰ کتب موجود ہیں۔ یہ ایک ناقابل انکار اور ہر قسم کے شک و شبہ سے بالاتر حقیقت ہے کہ قرآن مجید ایک دائم و قائم رہنے والی الہامی کتاب ہے۔ اس کا منفرد اور بے مثل طرز بیان ایک معجزہ ہے۔ قرآن مجید ماہ رمضان میں نازل ہونا شروع ہوا۔ اللہ تعالیٰ نے خود قرآن کی حفاظت کی ذمّہ داری لی ہے اور اب جبکہ جدید دور میں کمپیوٹر کی مدد سے بہت سی چیزیں چیک کی جاسکتی ہیں اس سے یہ بات ثابت ہوگئی ہے کہ اللہ رب العزّت نے قرآن مجید میں نہایت اہم حفاظتی معلومات کو اس طرح بند کردیا تھا کہ اگر کسی انسان نے اس کی نقل کرنے کی کوشش کی ہوتی تو فوراً ظاہر ہوجاتی۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ ’’اور ہم نے قرآن کو سمجھنے کے لئے آسان کردیا ہے تو کوئی ہے کہ سوچے سمجھے‘‘۔ اور ’’بے شک ہم نے اس قرآن کو عربی میں نازل کیا ہے تاکہ تم سمجھ سکو‘‘۔ میں نے پہلے عرض کیا ہے کہ کلام مجید کلام الٰہی ہے اس کو پڑھنے اور سُننے سے دل کو سکون اور تقویت ملتی ہے۔
اپنے پچھلے کالم میں مختصر سا تعارف قاری عبدالمالک کے ایک فکر انگیز مضمون ’’قرآن کی فریاد، قرآن کی زبان میں‘‘ کیا تھا۔ مضمون چونکہ اہم ہے میں اس کے چیدہ چیدہ حصّے آپ کی خدمت میں پیش کررہا ہوں۔
جس طرح شکوہ، جواب شکوہ میں
علّامہ اقبال ؒ نے پہلے انسان سے اللہ سے شکوہ بیان کیا اور پھر

اللہ تعالیٰ کی زبان مُبارک سے جواب دیا۔ اسی طرح قاری عبدالمالک صاحب نے قرآن کی زبان میں شکایت، فریاد بیان کی ہے۔ آپ نے پہلے قرآن کی یہ آیت بیان کی ہے۔ ’’جو میرے ’ذکر‘ (درس نصیحت) سے منہ موڑے گا اس کے لئے دنیا میں زندگی تنگ ہو جائے گی اور قیامت کے روز ہم اُسے اندھا اُٹھائینگے۔ وہ کہے گا،’ پروردگار دنیا میں تو میں آنکھوں والا تھا لیکن تو نے مجھے اندھا کیوں اُٹھایا؟‘ اللہ تعالیٰ فرمائے گا، ہاں اسی طرح تو ہماری آیات کو جب کہ وہ تیرے پاس آئی تھیں تو نے بھلا دیا تھا، اُسی طرح آج تو بھلایا جارہا ہے‘‘۔ حدیث نبویؐ ہے، ’’بے شک اللہ تعالیٰ قوموں کو قرآن پاک پر عمل کرنے کی وجہ سے اونچا اُٹھاتا ہے اور اُسے چھوڑنے کی وجہ سے نیچے گرا دیتا ہے۔‘‘
’’میں (یعنی قرآن) ایک زوال پذیر قوم سے مخاطب ہوں تاریخ کھلی کتاب کی طرح تمہارے سامنے ہے اگر تمہیں مجھ پر یقین نہیں تو کم سے کم تاریخ سے سبق حاصل کرلو کیا میری قدردانی کرنے والوں اور مجھے ماننے والوں کی کامیابیاں تاریخ کے سنہری باب نہیں اور کیا میری ناقدری کرنے والوں کی ذلت اور رسوائی تاریخ کا حصہ نہیں پھر آخر تم کیوں عقل نہیں کرتے اور سب کچھ جانتے ہوئے مجھ سے روگردانی کرتے ہو۔۔ تمہاری نظر میں میرا وہ مقام و مرتبہ نہیں رہا جس کا میں حقدار تھا۔ کیا تمہیں احساس ہے کہ میرے ذریعے اللہ تعالیٰ تم سے مخاطب ہے جو زمین و آسمانوں کی تمام قوتوں اور اختیارات کا سرچشمہ ہے۔ جو بادشاہوں کا بادشاہ ہے۔ جس کے پاس اتنی زبردست قوت ہے کہ جس کے ذریعے وہ حیرت انگیز وسعت کی حامل کائنات کو محض ’’کن‘‘ کے ایک اشارے سے تخلیق کرتا ہے جس نے انسان کو (جس میں بذات خود ایک کائنات آباد ہے) گُندی مٹی سے تخلیق کیا۔ اللہ کے پاس اختیار ہے کہ جس کو چاہتا ہے ذلت دیتا ہے اور جس کو چاہتا ہے عزت دیتا ہے۔ وہ اللہ جو مُردوں سے زندوں کو نکالتا ہے اور زندوں سے مردوں کو اور جو ہر چیز پر قدت رکھتا ہے جس کا تم تصور بھی نہیں کرسکتے اور ان پر بھی جو تمہارے محدود ذہن کے تصور میں بھی نہیں آسکتیں۔ اتنی مقدس ذات میرے ذریعے تم سے مخاطب ہے اور تم نے بدبختی کی انتہا کی ہوئی ہے اور اس کلام پر توجہ دینے کے لئے آمادہ نہیں۔ اگر تم (انسان) بھی کسی سے مخاطب ہوتے ہو اور دوسرا تمہارے کلام پر توجہ نہیں دیتا تم غصے سے لال پیلے ہوجاتے ہو اور اگر تمہارے بس میں ہوتا تو تم اسے نقصان بھی پہنچا دیتے ہو لیکن تم احساس نہیں کرتے کہ اللہ کے کلام کو توجہ سے نہ سننے کے نتیجے میں اللہ تعالیٰ جو تمام اختیارات کا مالک ہے کس قدر غصہ میں آتا ہوگا۔ اللہ تعالیٰ کے بس میں تو سب کچھ ہے لیکن اللہ کے کلام کو توجہ سے نہ سننے کے باوجود بھی تم بچے ہوئے ہو تو اس کی وجہ صرف یہ ہے کہ وہ بڑا رحمن، رحیم اور حکیم ہے……کیا تم صدر، وزیر اعظم، وزرائے مملکت ، گورنرز، وزرائے اعلیٰ یا آئی جی، ڈی آئی جی، کمشنر، ڈپٹی کمشنر، ایس پی، ڈی ایس پی یا ایک عام تھانیدار کے سامنے بھی ایسی بے نیازی برتتے ہو جس طرح اللہ کے کلام کے ساتھ برت رہے ہو۔ یقیناََ تم ان کی باتیں بھرپور توجہ سے سنتے ہو اور اس پر رد عمل ظاہر کرتے ہو۔ ماننا یا نہ ماننا اور بات ہے لیکن کسی عام انسان کے کلام کو سننے سے ہی بے نیازی کوئی انسانی طرز عمل نہیں چہ جائیکہ تم اللہ کے کلام کے ساتھ ایسی بے نیازی برتو۔ جس کی جتنی بات کو اہمیت دی جائے اسکو اتنی توجہ سے سنا جاتا ہے لیکن اللہ کے کلام کے ساتھ تمہاری بے نیازی اس بات کا مظہر نہیں کہ تم اس کلام کو غیر سمجھتے ہو۔ خواہ زبان سے تم کچھ بھی دعوے کرتے ہو۔ لیکن اس برتر ذات کی بات پر عدم توجہ کو کس بات کی علامت سمجھا جائے۔ مجھے بتائو تم نے اللہ کے کلام کو سمجھنے کے لئے کتنی کوششیں کی ہیں؟ اس کے معنی و مطالب کو جاننے کے لئے تمہارے اندر کتنی تڑپ ہے؟ اس پر عمل کرنے کا کس قدر جذبہ تمہارے اندر موجود ہے؟ تمہاری زندگیوں کے طویل عرصے گزر چکے ہیں۔ اس عرصے میں تم نے بہت سے کام کئے وہ تمام کام تمہارے نزدیک اللہ کے کلام کو جاننے سمجھنے اور اس پر عمل کرنے سے زیادہ اہم نہیں تھے؟ اگر واقعی اہم نہیں تھے تو آج تم میں 90 فیصد کیوں میری معنی و مطالب تو دور کی بات ہے اس کی سطح سے بھی ناواقف ہیں اور اس پر عمل سے بے پرواہ ہیں۔ شاید تم نے سمجھا کہ میری قدر اور میرا ادب یہ ہے کہ مجھے جزدانوں میں لپیٹ کر کسی اونچی جگہ رکھا جائے۔ مجھے سینوں اور آنکھوں سے لگایا جائے۔ معنی و مطالب سے بے نیاز مجھے پڑھا جاتا رہے۔ میری جانب پیٹھ کرنے سے گریز کیا جائے حالانکہ میرا حقیقی ادب یہ ہے کہ مجھ پر عمل کیا جائے۔ کیا تم ایسے بیٹے کو باادب کہتے ہو جو ماں باپ کی حمد و ثنا کرے ان کی طرف پیٹھ کرنے سے بھی گریز کرے لیکن ان کی نصیحتوں کو نظرانداز کرے ان کی احکامات کی خلاف ورزی کرے۔ یقیناََ تم ایسے بیٹے کو بے ادب اور گستاخ کہو گے۔ لیکن تم نے میرے ہی متعلق ادب کا یہ اچھوتا فلسفہ کیوں اپنایا ہے؟ تم جزدانوں میں لپیٹ کر مجھ سے محبت کے دعوے بھی کرتے ہو اور مجھ میں بیان کئے ہوئے اللہ کے احکامات پر عمل بھی نہیں کرتے۔ اتبعو اللہ کی بات کرتے ہو کہ اللہ براہ راست آکر تمہیں احکامات دے گا؟ اس نے تو میرے ذریعہ تمہارے پاس احکامات بھیج دیئے ہیں۔ ان پر عمل کرو یہی تمہارے خالق کی منشا ہے لیکن افسوس تم ایسا نہیں کررہے۔ بے شک میرا ایک حرف پڑھنے پر اللہ تعالیٰ دس نیکیاں دیتا ہے دس گناہ معاف کرتا ہے اور دس درجات بلند کرتا ہے۔ لیکن تمہارے رب کی یہ پیش کش صرف انہی لوگوں کے لئے فائدہ مند ہے جو مجھ کو سمجھنے اور مجھ پر عمل کرنے کاحق بھی ادا کررہے ہوں۔ تم میری جانب پیٹھ سے گریز کرتے ہو حالانکہ تم مجھ میں بیان کئے ہوئے اللہ کے احکامات کو پس پشت ڈال رہے ہو۔ تم مجھے سینے سے لگاتے ہو لیکن مجھ میں بیان کی ہوئی تعلیمات کو اپنے سینوں میں سمونے کے لئے تمہارے اندر کوئی تڑپ اور کوئی جذبہ موجود نہیں۔ لیکن پھر بھی تم مجھ سے محبت کے اور میری قدردانی کرنے کے دعویدار ہو۔ حالانکہ میں وہ قرآن ہوں جس کے متعلق خالق کائنات نے فرمایا: اگر ہم یہ قرآن پہاڑ پر نازل کرتے تو تم اس کو دیکھتے کہ اللہ کے خوف سے (وہ) پھٹ جاتا (سورۃ الحشر)۔ تم قرآن پڑھتے ہو لیکن تم پر کوئی خوف کی کیفیت طاری نہیں ہوتی حالانکہ صحابہؓ کے اعمال تم سےہزار گنا بہتر تھے۔ وہ بھی مجھے پڑھ کر اور مجھے سن کر خوفزدہ ہوجاتے تھے۔ ان کے دل اللہ کے خوف سے لرزنے لگتے تھے۔ خوف کی یہ کیفیت ان کے اعمال پر اثر انداز ہوتی اور وہ اللہ سے ڈرتے ہوئے تمام معاملات انجام دیتے۔ لیکن تمہارے اعمال میری مخالفت سے عبارت ہیں۔ تم پوری طرح دنیا میں مگن ہوچکے ہو ہر شخص زیادہ دنیا حاصل کرنے کی تگ و دو کر رہا ہے جبکہ میرے ماننے والوں کی یہ کیفیت ہرگز نہیں ہوتی۔ ان کے لئے یہ عارضی دنیا اس قدربے وقعت ہوجاتی ہے کہ اگر ان میں سے کسی کو یہ دنیا حاصل ہورہی ہو تو اسے خوشی نہیں ہوتی اور چھن جائے تو غم نہیں ہوتا اور جب دنیا اس قدر بے وقعت بن جائے تو اسے ناجائز طریقوں سے حاصل کرنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ لیکن آج تم دنیا کمانے کی دوڑ میں ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کے لئے مسلسل اللہ تعالیٰ کے احکامات کو نظرانداز کررہے ہو اور اپنے ایمان کی قیمت پر بھی دنیا حاصل کرنے کے لئے آمادہ ہو۔
یاد رکھو یہ سودا تمہیں بہت مہنگا پڑے گا تم چار آنے کی چیز کے بدلے اتنی بڑی قیمت ادا کررہے ہو جس کا کوئی حساب ہی نہیں۔
تم میں دینی غیرت اور حمیت بھی دم توڑ چکی ہے جبکہ مجھے اہمیت دینے والوں میں اور مجھے ماننے والوں کی دینی غیرت و حمیت کا یہ عالم ہوتا ہے کہ ہرطرح کی برائی ان کے لئے ناقابل برداشت ہوتی ہے امر بالمعروف و نہی عن المنکر کے لئے اللہ تعالیٰ کے احکامات میں سے کسی ایک حکم کی خلاف ورزی بھی قابل قبول نہیں ہوتی جبکہ اللہ تعالیٰ کا کون سا حکم ایسا ہے تمہارے معاشرے میں جس کی خلاف ورزی نہ ہورہی ہو۔ یہ اللہ خالق کائنات کا حق ہے کہ اسے ایک سمجھا جائے اور اس حقیقت کو پورے اہتمام کے ساتھ تسلیم کیا جائے کہ تمام تر قوت و اختیارات کا سرچشمہ خدا ئےواحد کی ذات ہے۔ لیکن آج تمہارے سامنے توحید کی خلاف ورزی ہو رہی ہے۔ لوگوں نے اللہ تعالیٰ کی قوت اور اختیار کو ان لوگوں میں تقسیم کر رکھا ہے جو خود اپنے بھلے اور برے کا اختیار بھی نہیں رکھتے بہت سوں نے اپنے نفسوں کو خدا بنا رکھا ہے اور اپنے نفسوں کی اس طرح پیروی کرتے ہیں جس طرح اللہ کی پیروی کرنے کا حق ہے۔ آج مجھ میں بیان کئے ہوئے احکامات کو میرے وجود کی طرح بالائے طاق رکھ دیا گیا بلکہ اللہ کے احکامات کے برخلاف عمل کرکے کلام اللہ کی زبردست توہین کی جارہی ہے نہ حکومت کے ایوانوں میں مجھ میں بیان کئے ہوئے احکامات کی قانون سازی ہوتی ہے اور نہ تمہاری عدالتوں میں میرے مطابق فیصلے کئے جاتے ہیں اور تو اور تم میں ہر فرد اپنے ذاتی معاملات میں بھی مجھے نظرانداز کرچکا ہے ہر شخص نے خود اپنے آپ کو خدا بنا رکھا ہے ہر طرح اپنے آپ کو بااختیار سمجھتا ہے اور خالق کائنات کی منشا کو چھوڑ کر اپنی مرضی سے زندگی بسر کررہا ہے اور اس باطل نظام کو بدلنے کی جدوجہد کرنے پر آمادہ نہیں۔ اللہ رب العزت نے تمہیں اتحاد کا درس دیا تھا کیونکہ مجھ میں بیان کئے ہوئے احکامات کو قوت ناقدرہ فراہم کرنے کے لئے اتحاد ناگزیر ہے لیکن تم نے یہ درس بھی بھلا دیا، اس لئے تم زبردست انتشار کا شکار ہو۔ دوسروںکی تنقید اور دوسروں کا موقف سمجھے بغیر اپنے صحیح ہونے کی خوش فہمی میں انسان کی خود فریبی کا عظیم شاہکار ہے۔ اگر تم مجھے ماننے والے ہو تو متحد کیوں نہیں؟ ذرا میرے ساتھ اپنے تعلق کا حقیقت پسند تجزیہ تو کرو۔ خوفناک حقائق تمہارا استقبال کے لئے موجود ہوں گے۔ میر ے ذریعہ اللہ تعالیٰ نے تمہیں مظاہر کائنات میں غور و فکر اور تدبر کی دعوت بھی دی تاکہ تم کائنات کے اسرار و رموز پر سے جہالت کا نقاب اٹھائو اور انسان کی بہتری اور فلاح کا سامان کرو۔ لیکن افسوس کی بات ہے کہ آج اہل مغرب مجھ پر باقاعدہ تحقیق کررہے ہیں۔ معنویت کی گہرائی میں اتر کر کائنات کے اسرار و رموز پارہے ہیں۔ مغرب کی کوئی تجربہ گاہ میرے بغیر مکمل نہیں ہوتی تم نے مجھے سطحی طور بھی نہیں سمجھا اس اعتبار سے بھی تم نے میری ناقدری کی ہے اور اس لئے علم و تحقیق کے میدان میں تم بہت پیچھے ہو۔ سورۃ الرحمن آیت نمبر 1تا 2۔ اللہ کا ارشاد ہے رحمن نے اس قرآن کی تعلیم دی ہے۔ اللہ پاک نے انسان کو قرآن حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعے اور آپؐ نے اس کے احکام و تعلیمات پر خود عمل کرکے اور کرا کر دکھایا اصحاب ؒ رسولؐ کے ذریعے اور ان لوگوں نے مجھے حقیقی طور پر مانا اور اللہ پر غیرمتزلزل ایمان رکھنے لگے۔ ان کی محبت کا عالم یہ تھا کہ میری رہنمائی کے بغیر کوئی قدم نہیں اٹھاتے تھے۔ ان کی زندگی میں مجھے اس قدر اہمیت حاصل تھی کہ وہ زبان سے زیادہ عمل سے میری تلاوت کرتے تھے وہ ہر معاملے میں مجھ سے فیصلہ لیتے اور فیصلہ آجانے کے بعد کوئی تنگی دل میں محسوس نہیں کرتے۔ یہ وہ لوگ تھےجو دنیاوی نقصانات برداشت کرتے رہے۔ انہوں نے ہجرت کی اپنا علاقہ اپنا گھر بار چھوڑا، انہوں نے یہ نہیں سوچا کہ ہم اللہ کے دین کی سر بلندی کے لئے کام کریں گے تو ہمارے کاروبار کا حرج ہوگا۔ انہوں نے ہر کام اور اپنی ضرورت پر دین کو اولیت دی۔ میری قدردانی کی وجہ سے اللہ نے ان ہستیوں کو بادشاہ بنا دیا۔ وہ ایسے فاتح تھے جو صرف فتح نہیں کرتے بلکہ اس پر رہنے والوں کو بھی مسخر کر لیتے۔‘‘

Please follow and like us:
20




Leave a Reply